Home » Book & Literature Review » کبھی عشق کرو | یاسمین نشاط
کبھی عشق کرو تو
کبھی عشق کرو

کبھی عشق کرو | یاسمین نشاط

کبھی عشق کرو از یاسمین نشاط

ایک طویل عرصے بعد آپا نے طویل ناول لکھا۔ پریم کتھا کا انت نہ کوئی جب پڑھا تھا تو وہ بہت اچھا لکھا گیا ناول تھا۔ لیکن اس کا اختتام بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔ اس کے بعد شدت سے اگلے طویل ناول کا انتظار کیا۔ پھر کبھی عشق کرو آنلائن لکھا گیا۔

.

کبھی عشق کرو کہانی تھی منزہ، نفیسہ اور زلیخا کی۔ یہ کہانی ہے کچھ پچھتاوں کی، جو عمر بھر کے روگ بن جاتے ہیں۔ اس ناول میں بتایا گیا ہے کہ کبھی بھی جذبات میں کیے گئے فیصلے درست نہیں ہوتے۔ جب ہم اپنے زعم میں خود کو درست اور حق پر سمجھ کر قدم اٹھاتے ہیں تو درحقیقت ہم کئی زندگیاں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

زلیخا نے اپنے دل کی سنی اور ایک عمر تک اس کا تاوان بھرتی رہی۔ نفیسہ نے ماں باپ کے فیصلے پر سر جھکایا اور رشتوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔ جبکہ منزہ اپنے دل کی مراد پا کر بھی خالی دامن رہی۔

.

تین مختلف محبتیں اور تینوں کے ہی مختلف انجام۔۔۔ ناول میں بہت سارے کردار ہیں۔ لیکن اس احمد کی سمجھ نہیں آئی۔ کہاں افشاں کے لیے گوڈے گوڈے مر رہا تھا اور صائمہ کو ٹھکرایا۔۔۔ اور کہاں منزہ کا دیوانہ بن گیا۔

.

بلاشبہ ناول اچھا لکھا گیا ہے لیکن مجھے لگا کہ اسے جلدی میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ کچھ چیزیں ادھوری رہ گئیں۔۔۔ مبین کو مارنا ہی تھا تو پہلے اسے زندہ رکھنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔نفیسہ بے چاری کو خواہ مخواہ میں ہی مار دیا۔ اس کردار سے تو مجھے ڈپریشن ہونے لگ گیا تھا۔

احمد، افشاں، رضوان اور اس کی ماں بہنیں ان سب کردار کو انجام تک پہنچانا تھا۔ چلو جادو کروانے کا انجام دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ مگر بے چاری منزہ کی ماں کے ساتھ تو بہت ہی برا ہوا۔ ولید اور بینا کی سمجھ نہیں لگی۔ ولید کا تعارف ایسا ہوا تھا جیسے وہ عصمت دری کا دلدادہ ہے لیکن پھر آگے جا کر اچھا بن گیا۔ زلیخا کی ماں تو مجھے کسی اور ہی دنیا کی باسی لگی۔

معذرت کے ساتھ یاسمین نشاط بہترین لکھاریوں میں سے ایک ہیں۔ لیکن کبھی عشق کرو میں وہ رنگ نہیں جم سکا جس کی توقع تھی یا جیسا آپا کے دوسرے ناولوں نے جمایا۔ یاسمین آپا پریم کتھا جیسا دوبارہ لکھیے۔ بڑی ساری حویلی، ڈھیر سارے کردار اور آپ کی یکسوئی۔

کبھی عشق میں کئی جگہ ایسا لگا کہ اسے زبردستی گھسیٹا گیا ہے۔ املاء کے ساتھ ناموں کی چک پھیریوں نے دماغ ہلا ڈالا۔یہ کتاب تاشفین پبلیکیشنز سے شائع ہوئی ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ کو بھی ناول پڑھ کر ویسا لگے، جیسا مجھے لگا۔ بہر کیف پسند اپنی اپنی۔ ویسے بھی رائے اپنی ذاتی تجربے سے ہی بنانی چاہیئے۔ اس لیے کتاب کو عزت دیجئے۔

نظرِ ثانی کے لیے فہمی باجی کا شکریہ۔ آپا کے لیے ڈھیر ساری نیک تمنائیں

آبان احمد کا گزشتہ تبصرہ دل دیا دہلیز

About Aabaan Ahmed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *