Templates by BIGtheme NET
Home » Fehmiology » میری جدوجہد کی کہانی، میری زبانی
مصالحہ دار ہنگامی نگارشات
مصالحہ دار ہنگامی نگارشات

میری جدوجہد کی کہانی، میری زبانی

میری جدوجہد کی کہانی، میری زبانی السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ کیسے ہیں آپ سب؟ میں یہاں اپنے تجربات پیش کرنے جا رہی ہوں۔ ہو سکتا ہے آپ کو کچھ سیکھنے کو ملے۔ چلیں آپ نے نہ بھی سیکھا تو مجھے اطمینان ہے کہ میں کچھ نہ کچھ سیکھ چکی ہوں۔ اصل کہانی دو ہزار سولہ میں شروع ہوئی لیکن اس_کے_پیچھے_بھی_ایک_کہانی_ہے۔۔۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے سوچا مجھے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی کام بھی کرنا چاہیئے۔ اس ضمن میں مجھے پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تب میں پی ایس سی…

Review Overview

User Rating: 3.14 ( 3 votes)
0
میری جدوجہد کی کہانی، میری زبانی

میری جدوجہد کی کہانی، میری زبانی

السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ

کیسے ہیں آپ سب؟

میں یہاں اپنے تجربات پیش کرنے جا رہی ہوں۔ ہو سکتا ہے آپ کو کچھ سیکھنے کو ملے۔ چلیں آپ نے نہ بھی سیکھا تو مجھے اطمینان ہے کہ میں کچھ نہ کچھ سیکھ چکی ہوں۔ اصل کہانی دو ہزار سولہ میں شروع ہوئی لیکن اس_کے_پیچھے_بھی_ایک_کہانی_ہے۔۔۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے سوچا مجھے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی کام بھی کرنا چاہیئے۔ اس ضمن میں مجھے پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

تب میں پی ایس سی (پبلک سروس کمیشن) سے تازہ تازہ زخم خوردہ تھی۔ جس آسامی کے ٹیسٹ/انٹرویو دونوں میں ٹاپر تھی، وہ کسی اور کو مل گئی تھی۔ جواز یہ تراشا گیا، ”چونکہ آپ معذور ہیں، اس لیے یہ جاب آپ کو نہیں مل سکتی۔“ اس ناانصافی پر مجھے شدید غصہ آیا۔ میں نے سوچا ملازمت تو ملنی نہیں، ان کو سنا کر ہی جاؤں گی تاکہ ان کو پتہ چلے کوئی فہمیدہ بھی آئی تھی۔ میں نے آدھا گھنٹہ سیکریٹری صاحب کو ٹانگ کر رکھا۔ انہوں نے مجھے یقین دہانی کروائی کہ مجھے متبادل سیٹ مہیا کی جائے گی۔ (وہی وقتی جان چھڑانے کے حربے) وہ دن ہے اور آج کا دن، وعدہ وفا نہ ہوا۔ اس واقعہ کو بھی مدتیں بیت چلیں۔ وہ سیکریٹری صاحب رب جانے کہاں ہوں گے۔ میں نے اسی دوران سیکشن آفیسر کی پوسٹ کے لیے بھی اپلائی کیا ہوا تھا۔ شومئی قسمت اس میں ایک عدد کوٹہ سیٹ بھی تھی۔ لیکن اس امتحان کا ہنوز اتا پتہ ہی نہیں تھا۔ تاریخ کا اعلان ہوتا اور ساتھ ہی اسٹے لگ جاتا۔ میں پورے دو سال اس عذاب سے بارہا گزری۔ آسامیاں دیکھنا، درخواستیں لکھنا، دستاویزات جمع کروانا، بینک چلان بھرنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ مون نے اس پر دل جلا تبصرہ کیا، ”اگر میں کسی دن فہمی کی ڈگری پر پکوڑے کھا رہا ہوں گا تو مجھے قطعی حیرت نہیں ہو گی۔“ وہ بھی کیا کرتا، میرے کاغذات فوٹو سٹیٹ کروا کروا کے تھک گیا تھا۔

یہ ناکام کشٹ اٹھانے کے بعد مجھے شدید ڈپریشن ہو گیا تھا۔ میری حالت اتنی ردی ہو چکی تھی کہ میں ہمہ وقت غصے میں رہتی تھی۔۔۔ یا بیٹھے بیٹھے رونا شروع کر دیتی تھی۔ چھ ماہ مزید اس بزرخ میں گزرے۔ میں کبھی بھی ایک کیفیت میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتی۔ اب سوچوں تو حیرت ہوتی ہے میں نے ڈھائی تین سال اکٹھے اس کیفیت میں کیسے گزار دیئے۔ ایک دن میں بہت روئی۔۔۔ خوب رو دھو کر دل کی بھڑاس نکالی۔۔۔ پھر سکون سے بیٹھ کر اپنا تجزیہ شروع کیا، ”یہ میں کیا کر رہی ہوں؟ کیوں اتنا وقت ضائع کیے جا رہی ہوں۔“ میں ایسی کبھی بھی نہیں تھی۔ ہمارے سب جاننے والے اور ہمسائے ہمیشہ کہتے تھے کہ فہمی بہت بہادر اور ہنس مکھ ہے۔ اس کو ہم نے کبھی دکھی یا غمزدہ نہیں دیکھا۔۔۔ مگر اب یہ حقیقتاً ہو رہا تھا، مایوسی کا دور دورہ تھا اور ہم تھے دوستو۔۔۔

ادھر میرا بی ایڈ مکمل ہوا، ادھر بطورِ لیکچرر معاشیات میری تعیناتی ہو گئی۔۔۔ میں نے اپنے پہلے ماسٹرز کے ساتھ ساتھ بی ایڈ کیا تھا۔ لیکن ذرا رکیے۔۔۔ میری زندگی میں آسانی در آئے، یہ کیسے ممکن تھا۔ اچانک فائل غائب ہو گئی۔ یہ میرے لیے ایک اور بڑا دھچکا ثابت ہوا۔ فائل کی بازیابی کے لیے ڈھنڈیا مچ گئی۔۔۔ میرے گھر والے دفتر دفتر پھرے۔۔۔ الماریوں کا کونا کونا چھان مارا مگر فائل ہوتی تو ملتی۔۔۔ فائل کہاں گئی تھی اس_کے_پیچھے_بھی_ایک_کہانی_ہے جو آگے چل کر سہی۔۔۔

فی الحال واپس وہاں جاتے ہیں جہاں میں نے خود کی تجزیہ کاری شروع کی تھی۔۔۔ میں نے سوچا وہ کون سا کام ہے جو میں فوری طور پر کر سکتی ہوں۔ مجھے اس سارے جنجال سے نکلنا تھا۔۔۔ اس سارے لفڑے میں میری ازلی برداشت کم پڑ گئی تھی۔۔۔ یادداشت پر بہت برا اثر پڑا تھا۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر میں قنوطی ہو گئی تھی۔۔۔ یہ سب مجھے کبھی پسند نہیں رہا تھا، کسی اور کے لیے نہ اپنے لیے۔۔۔ میں پیدائشی باہمت تھی تو حالات کے سامنے سِپر کیونکر ڈال دیتی۔ تبھی مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا۔ ممی کی اون سلائیاں الجھاتے سلجھاتے جانے کب چھوٹی چھوٹی چیزیں بننا سیکھ لیا تھا۔۔۔ ہم سادہ چیزیں نہیں بُنتے تھے بلکہ زبردست قسم کے ڈیزائن تخلیق کیا کرتے تھے۔۔۔ اس پر فرمائشیں بھی آتی تھیں کہ بچے کے لیے ڈیزائنی ٹوپی موزے بنا دو۔سویٹر ہم صرف اپنے لیے بنایا کرتے تھے۔۔۔ یہ خیال آنا تھا کہ اون منگوائی، سلائیاں میرے پاس پہلے سے تھیں۔۔۔ چونکہ میں تازہ تازہ خود کو جوڑ رہی تھی تو چھوٹی چیز اور نئے تجربے سے آغاز کا سوچا۔ جی ہاں اس بار ہم جوتے بنانا سیکھنے والے تھے۔

میں نے گوگل چاچا سے کوئی آئیڈیا عنایت فرمانے کی استدعا کی، اس نے یوٹیوب کے لنک دکھانا شروع کر دیئے۔ تب یوٹیوب سے بس اتنا ہے تعارف تھا کہ بہت بری جگہ ہے۔۔۔ دنیا جہان کا گند بھرا پڑا ہے وہاں بلا بلا۔۔۔ تاہم میں ہر جگہ اپنے طریقہ کار سے ہی چلتی ہوں۔ سوچا دیکھ لیتی ہوں، اس نے کون سا مجھے ہاتھ پکڑ کر کھینچ لینا ہے کہ برائی دیکھو ہی دیکھو۔۔۔ بس جی بسم اللہ پڑھ کر ایک لنک کھولا آگے برائی صاحبہ تو نہ دکھیں، پیارے پیارے خوبصورت جوتے ضرور دکھائی دے گئے۔ فہمی صاحب کی باچھیں چر کر کانوں سے جا لگیں، ”ارے واہ کتنے پیارے جوتے ہیں، میں یہ سب بنانا سیکھوں گی۔“ ہنسیئے گا مت کہ ڈھائی سال بعد عزمِ نو تازہ کیا بھی تو جوتے بنانے کے لیے۔۔۔ میرے لیے اس سارے قضیے سے نکلنا اہم تھا، باقی سب ثانوی۔۔۔

جاری ہے۔

بتاریخ ۲۰ جنوری ۲۰۲۲

#The_Fehmiology

#FFKhan

#FFK

About FFK

A freelancer, blogger, content writer, translator, tour consultant, proofreader, environmentalist, social mobilizer, poetess and novelist. As a physically challenged person, she extends advocacy on disability related issues. She's masters in Economics and Linguistics along with B.Ed.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*