Templates by BIGtheme NET
Home » fehmiology » محاوراتی ہنگامی نگارشات

محاوراتی ہنگامی نگارشات

محاوراتی ہنگامی نگارشات

(حصہ سوم)

بہت دن سے چائے کی پیالی میں کوئی طوفان اٹھتے نہ دیکھ کر ہماری رگِ ظرافت پھڑک اٹھی۔ ہم نے خود کو للکارا۔۔۔

چل بیٹا اٹھ۔۔۔

پانی میں آگ لگاتے ہیں۔۔۔

بایں ہمہ ہماری دو عدد انتقامی نگارشات کامیابی کی پکی سند پا چکی تھیں۔ ہمارے پرستار ہماری نستعلیق اردو پڑھ کر انگشت بدنداں تھے اور تعریفوں کے ڈونگرے برسا رہے تھے۔ ان کی دورغ گوئی کے بمطابق زبان و بیان کا ایسا تال میل کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ حلقۂ احباب میں یکایک ہماری ذہانت و فطانت کے ڈنکے پٹنے لگے…. اس غیر متوقع پذیرائی نے ہمارا دل باغ باغ کر دیا۔ گویا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا اور ہمیں ہفت اقلیم کی دولت مل گئی۔ بالآخر ہم بزعمِ خود لکھاری بن چکے تھے، لہٰذا خوشیوں کے ہنڈولے جھولنے لگے۔ ہمارا تخیل آسمان کی وسعتوں میںمحو پرواز تھا جس کے پیشِ نظر شیخ چلی کے انڈوں کی ٹوکری گرنے کا احتمال پیدا ہو گیا تھا۔ قرین از قیاس تھا کہ اس کا سہرا ہمارے ہی سر بندھتا کیونکہ ہم خود ہی اپنے تئیں شاخِ زعفراں تھے۔

ہائے یہ نیئرنگیِ خیال ہمیں کہاں کہاں نہ بھٹکا لے گئی۔ ہم خود کو مصنف مصنف سا محسوس کرنے لگے۔ یعنی وہی مثل ”سوت نہ کپاس، کولہو سے لٹھم لٹھا۔“ اس بے انت کتھاء کے محرکات کے ڈانڈے کہیں نہ کہیں ہمارے حلقہ احباب کی ان قلمی موشگافیوں سے جا ملتے تھے، جن کی وساطت سے ہمارے اندر اردوئے معلٰی کے سرایت کردہ جرثومے یک لخت انگڑائی لے کر بیدار ہو گئے تھے…… ان نابغہ روزگار ہستیوں کے زریں تعریفی فرمودات کی روشنی میں ہمارا پھول کر کپا ہونا بنتا تھا۔

دریں اثناء ہماری اس فقید المثال کامیابی کی بھنک خوشہ چینوں کو پڑ گئی۔ ان کے سینوں پر ناگ (سانپ) لوٹنے لگے۔۔۔ ہمارے خلاف چہ مگوئیوں کا نیا محاذ کھل گیا…. وہ آناً فاناً ہم پر یوں چڑھ دوڑے، گویا قرض خواہوں سے صدیوں پرانا حساب چکتا کروانا ہو…… مانو ہماری کامیابی کا سارا نشہ ہرن ہو گیا…. مخالفین کی کھلم کھلا چیرہ دستیوں اور مخاصمت نے ہماری آرزوؤں کامحل تاخت و تاراج کر ڈالا۔ ان کے کینچلی بدلنے پر ہم ششدر رہ گئے بلکہ شش و پنج کا شکار ہو گئے۔۔۔ آیا یہ وہی ہمارے شناسا لوگ ہیں یا کہیں دوسرے سیارے سے آمد ہوئی ہے….. یہ ”اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ“ والا معاملہ تھا۔ ہم نے پتہ مار کر کامیابی کے جھنڈے گاڑے تھے۔ انہوں نے اس پر انگلی اٹھا کر ہماری محنت پر پانی پھیر دیا۔

ناچ نہ جانے، آنگن ٹیڑھا۔۔۔

بلی کو چھیچھڑوں کے خواب۔۔۔

نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی۔۔۔

نامعلوم کون کون سے محاوراتی حربوں کا بے دریغ استعمال کر کے ہمیں چاروں شانے چت کرنے کی کوشش کی گئی….. ان بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں نے ہمیں چراغ پا کر ڈالا اور ہم بھی خم ٹھونک کر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو گئے…… یقیناً باطل سے ڈرنے والے نہیں تھے اے آسمان ہم۔۔۔!

مخالفین سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے ہم ایک مرتبہ پھر اردو کے بحرِ بیکراں میں غوطہ زن ہوئے۔ ہم اپنے گنجینہ فرہنگ سے ایسے آبدار موتی چن کر لائے کہ سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

تو صاحبو۔۔۔!

ہاتھ کنگن کو آر سی کیا کے مصداق احباب کے دیوتا کوچ کر گئے۔۔۔

ہائے ہائے حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے۔۔۔

آب ندیدہ، موزہ کشیدہ۔۔۔۔

آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا۔۔۔

آ بیل مجھے مار۔۔۔

اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گیئں کھیت۔۔۔

اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنا۔۔۔

غرضیکہ محاوراتی چومکھی لڑنے کا ایسا طومار باندھا کہ وہ اش اش کر اٹھے۔ اس دو بدو لڑائی نے دشمنوں کے دانت کھٹے کر دیئے… ان کو گھٹنے ٹیک کر سپر ڈالتے ہی بنی کیونکہ ان کو آٹے دال کا بھاؤ خوب معلوم ہو گیا تھا۔

تحریر: فہمیدہ فرید خان

بتاریخ ۰۹ ستمبر ۲۰۱۶

#FFKhan

#FFK

About Fehmeeda Farid Khan

A freelancer, blogger, content writer, translator, tour consultant, proofreader, environmentalist, social mobilizer, poetess and novelist. As a physically challenged person, she extends advocacy on disability related issues. She's masters in Economics and Linguistics along with B.Ed.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*