Home » Movie, Drama and Series Reviews » Cell 145 | A Web Series | Review in Urdu
Cell 145
Cell 145 | Web Series

Cell 145 | A Web Series | Review in Urdu

Cell 145

Cell 145

اس سیریز کے بارے میں سنا تھا کہ یہ ایک بنگالی سیریز ہے۔ یہ ایک شاندار مسٹری سیریز ہے، یہ سننا تھا کہ سب سے پہلا خیال یہی آیا کہ بنگالی بھی ہم سے آگے نکل گئے۔۔۔ تاہم بعد میں علم ہوا یہ بھارتی بنگال میں بنائی گئی ہے۔

کسی بھی ویب سیریز میں ان سلجھی گتھی کا ہونا میرے لیے بہت دلچسپی کا باعث ہوتا ہے۔ پسندیدہ صنف میں پراسراریت سرِ فہرست ہے۔ یہ سیریز چونکہ فوراً ہی میسر آ گئی تھی ساتھ ساتھ ہی دیکھنا شروع کر دی تھی۔

اوسطاً بیس بائیس منٹ کی ہر قسط ہے۔ کل سات اقساط ہیں۔ کہانی میں کردار، جگہ، سکرین پلے، مکالمے، اداکاری ہر چیز میرے لیے نئی تھی کیونکہ میں پہلی بار کوئی بنگالی سیریز دیکھ رہا تھا۔ ویسے اس سے پہلے بھی ایک بنگالی مسٹری سیریز کا سن رکھا ہے، پر ابھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ ہاں تعریف تو اس کی بھی بہت سنی ہے۔

پہلے منظر کا آغاز سنسنی خیز لیکن زبردست بیک گراؤنڈ میوزک سے ہوتا ہے۔ ہر قسط شروع سے اختتام تک سسپنس اور تجسس چھوڑتی ہے۔ اگلی قسط اسی سسپنس کو آگے لے کر آخر تک چلتی ہے۔ کمال کی ہدایت کاری تھی۔ سین بہت خوب صورت تھی۔ اس کی اداکاری میں بھی حقیقی رنگ دکھائی دیا۔

کہانی کے بارے میں مختصراً بتاتا چلوں۔ یہ کہانی آکاش نگر کی سینٹرل جیل سے شروع ہوتی ہے۔ سینٹرل جیل کے انچارج پر اس کا صاحب گرج برس رہا ہوتا ہے کہ جیل کی ویڈیو لیک کیسے ہوئی؟ وہاں ایک نئے بھرتی ہونے والے پولیس مین کی ڈیوٹی تھی کہ وہ قیدیوں کی گنتی کرے کہ آیا قیدیوں کی تعداد مکمل ہے؟ یا کوئی گڑبڑ گھوٹالہ ہوا ہے۔ وہ گنتی کر کے بتاتا ہے کہ ۳۲۶ قیدی ہیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ وہاں قیدیوں کی کل تعداد ۳۲۵ تھی۔ سب اس سے دریافت کرنے لگتے کہ او پائین یہ تم نے ایک اضافی قیدی کہاں سے پیدا کر لیا۔

یہ سیل جس کا نمبر ۱۴۵ تھا وہاں پہنچنے پر پتا چلتا ہے کہ وہاں ایک اضافی قیدی واقعی موجود ہے۔ یہی قیدی اس سیریز کی گتھی یعنی مسٹری ہے۔ وہ قیدی گونگا ہوتا ہے اور پوری سیریز میں اشاروں سے بات کرتا ہے۔ یہی اس کی اداکاری کا اوجِ کمال تھا۔ اس نے کردار کا حق ادا کر دیا۔

لیکن اصل بات یہ نہیں تھی کہ وہاں قیدی تھا۔ اصل اسرار یہ تھا کہ وہ قیدی وہاں آیا کیسے؟ کیوں کہ وہ سیل پچھلے پچاس سال سے بند پڑا تھا۔ اس پر لگا زنگ آلود تالا ہنوز موجود تھا۔ اس سیل سے متعلق طرح طرح کی کہانیاں مشہور تھیں۔ ان کا جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ سیل ۱۴۵ انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز سیریز ہے۔ اس کے بارے میں مزید بتا کر آپ کا مزہ کرکرا کرنا نہیں چاہوں گا۔

وہ قیدی کون تھا؟

وہ وہاں کیسے آیا؟

Cell 145

کے قیدی کا اپنی عمر کے بارے میں بتانا کہ اتنی عمر ہے کیا واقعی ایسا تھا؟

کیا واقعی اس کا کسی جنگ سے تعلق تھا؟

پولیس نے جو گتھی سلجھانا تھی، کیا وہ سلجھ پائی؟

یہ سب جاننے کے لیے آپ کو دیکھنا پڑے گی ویب سیریز۔۔۔

Cell 145

تجزیہ نگار: عبدالباسط

Previous Blog Legend of the Blue Sea

About Fehmeeda Farid Khan

Fehmeeda Farid Khan is a freelance blogger, content writer, translator, tour consultant, proofreader, environmentalist, social mobilizer, poetess and a novelist. As a physically challenged person, she extends advocacy on disability related issues. She's masters in Economics and Linguistics along with B.Ed.

8 comments

  1. I’m really enjoying the content of your site.

  2. It’s very simple to find out any topic on net as compared to books,as I found this piece of writing at this web page.

  3. Wow, that’s what I was searching for, what a data!
    present here at this website, thanks admin of this website.

  4. Greetings! Very helpful post!
    It’s the little changes that make the greatest changes.
    Many thanks for sharing.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *