نانگا پربت – مستنصر حسین تارڑ – اردو تبصرہ

کیا آپ موسم کی اس تپش سے گھبرائے ہوئے ہیں؟ آپ بھی زندگی کے اس گول دائرے میں گھومتے گھومتے اکتا گئے ہیں؟ سرسبز میدانوں اور برف پوش چوٹیوں کو قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کا بینک بیلنس آپ کی ان خواہشات کو دیکھ کر آپ پر ہنس رہا ہے؟ کیا آپ میری طرح سفر تو کرنا چاہتے ہیں؟ تو پھر مستنصر حسین تارڑ کا نانگا پربت پڑھ کر اپنا دل بہلا لیجیے۔ اس گرمی سے کچھ دیر کے لیے فرار پا لیجئے۔

~


نانگا پربت ایک ٹریٹ ہے۔ عموماً سفر نامہ کسی ایک جگہ کے بارے میں تفصیل بتاتا ہے۔ مگر تارڑ صاحب نے بہت سے علاقوں کو یکجا کر دیا ہے۔ مثلاً اسکردو اور وہاں کی جھیلیں، ہنزہ، فیری میڈوز، تاتو، نانگا پربت بیس کیمپ، گلگت، استور، روپل، ترشنگ، ہوشے، وادیٔ شگر، دیوسائی وغیرہ۔

مستنصر صاحب کی ایک بات مجھے بہت پسند ہے کہ وہ بے جا تعریفوں کے پل نہیں باندھتے۔ جیسا محسوس کرتے ہیں، ویسا ہی لکھ دیتے ہیں۔ مثلاً فیری میڈوز کے بارے میں ہم نے بہت کچھ سن رکھا ہے۔ مگر مستنصر صاحب کا تاثر مجھے حقیقت سے قریب لگا۔ انہوں نے نانگا پربت کے یہ سفر 1988-1989 میں کیے تھے۔ تب کے اور اب کے حالات میں بہت فرق ہو گا۔ مجھے لگتا ہے اس میں بہتری کی بجائے خرابی ہوئی ہے۔ حد درجہ تعمیرات نے ان علاقوں کا حسن مسخ کر دیا ہے۔ وہاں کے لوگوں کی سادگی اب مادہ پرستی میں بدل گئی ہے۔

ایک اور بات مجھے حیران کرتی ہے۔ تارڑ صاحب اپنے سفر ناموں میں غیر ممالک سے آنے والے سیاحوں کا بہت ذکر کرتے ہیں۔ ہنزہ داستان میں بھی فرانس، جاپان، امریکہ، انگلینڈ سمیت مختلف ممالک سے سیاحوں کے گروہوں سے دوران سفر ملاقات کا تذکرہ تھا، اب نانگا پربت میں بھی۔ یاد رہے یہ بہت سال پہلے کی بات ہی۔ تو پھر یہ سیاحت کے فروغ کا کیا شور ہے؟ میرے خیال میں مغربی ممالک کے سیاحوں کے لیے ان علاقوں کا حسن، رہن سہن اور لوگ ایک عجوبہ تھے۔ اب کچھ بھی ویسا نہیں رہا۔ سیاحوں کا آنا جانا بہت بڑھ گیا ہے۔ اسی حساب سے لوگوں میں مطلب پرستی، مہنگائی، تعمیرات، گندگی سب کچھ بڑھ گیا ہے۔

~

نانگا پربت پڑھتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ شاید میں یہ علاقے اب کے دور میں نہیں دیکھنا چاہوں۔ میں اسی دور میں رہنا چاہتی ہوں جو تارڑ صاحب نے بیان کیا ہے۔ اب ہم وہاں جائیں تو شاید مایوسی ہو گی۔ تارڑ صاحب قدرت کے ان دل آویز مناظر کی منظر کشی عمدہ طریقے سے کرتے ہیں۔ آپ وادیْ روپل کے پھولوں کی مہک محسوس کر سکتے ہیں۔۔۔ پہاڑ کی چوٹی سے سامنے دیو سائی کا منظر دیکھ سکتے ہیں۔۔۔ نانگا پربت کے دامن میں سرد ہوا کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اس سفر کی مشکلات سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔موسم کی شدت کو برداشت کرنا، کھانے پینے کے مسائل، کیمپنگ غرض یہ سفر مضبوط اعصاب، ہمت اور برداشت سے ہی ممکن ہے۔ پھر جو لوگ وہاں تک پہنچ جاتے ہیں، انہیں قدرت اپنے رازوں میں شریک کر لیتی ہے۔
گرمی کے توڑ کے لیے نانگا پربت جیسے سفر نامے کم خرچ بالا نشیں ٹوٹکا ہیں۔ ضرور آزمائیے۔

سدرہ جاوید

Gone Girl (Review) – Dark and Twisted -Perfect Example of Thriller

1 thought on “نانگا پربت – مستنصر حسین تارڑ – اردو تبصرہ”

Leave a Comment