Templates by BIGtheme NET
Home » fehmiology » زلزلہ ۲۰۰۵
زلزلہ
Muzaffarabad

زلزلہ ۲۰۰۵

زلزلہ ۲۰۰۵
ویسے تو میری زندگی بے شمار عجیب و غریب واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن کچھ لمحات ذہن پر یوں نقش ہیں کہ مٹائے نہیں مٹتے۔۔۔ انہی میں سے ایک ۲۰۰۵ کا زلزلہ بھی ہے۔ میری حالت کے تناظر میں ایک سوال تواتر سے پوچھا جاتا رہا ہے اور اب بھی کبھی کبھی اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے کہ جس وقت زلزلہ آیا، آپ کہاں تھیں؟ اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے مجھے پیچھے جانا پڑے گا۔
مجهے اچھی طرح یاد ہے جب اگست کے مہینے سے مجھے ڈراؤنے خواب و خیال آنے لگے تھے۔ یہ کیفیت صرف سوتے میں نہیں بلکہ جاگتے میں بھی ہوتی تھی حتیٰ کہ نماز کے دوران بھی۔ خصوصاً سجدے میں یہ کیفیت شدت سے وارد ہوتی تھی۔ یہ تخیلات بے انتہا صاف، واضح اور بے انتہاء خوفزدہ کر دینے والے ہوتے تھے۔ میں تسلسل سے ان کو دیکھتی تھی۔ نیند کے دوران چیختی ہوئی اٹھ جاتی تھی اور اکثر نماز توڑ کر باہر بھاگ جاتی تھی۔ میں اس کیفیت کو محسوس کر سکتی تھی لیکن الفاظ میں ڈھالنے سے قاصر تھی۔ سب پوچھتے تھے کیا محسوس ہو رہا ہے مگر میں بتا نہیں پاتی تھی۔ یہ واقعات میری نگاہوں کے سامنے پورے سیاق و سباق کے ساتھ گھومتے تھے۔ میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر کیا ہونے جا رہا ہے۔ میرا دھیان زیادہ سے زیادہ ایٹمی جنگ کی طرف جاتا تھا تاہم حالات کچھ اور رخ دکھا رہے تھے۔ تباہی و بربادی کے مناظر اور لوگوں کی آه و بکا کی کہانی مختلف تھی۔ میں دیکھتی تھی کہ ہمارے گھر کے پیچھے جو میدان ہے، وہاں سارے محلے والے پریشانی کے عالم میں بیٹھے ہیں۔ یہ باتیں سمجھ میں آنے والی تھیں، پر ان کا محرک سمجھ نہیں آتا تھا۔
کرتے کرتے بالآخر اکتوبر کا مہینہ آن پہنچا۔ عجیب سی بے چینی اور خلفشار تھا جو کسی طور کم ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔ چھ اکتوبر کو رمضان کا آغاز بھی اسی حالت میں ہوا۔ سست رفتاری سے رینگ رینگ کر دو روزے پورے ہوئے۔ رمضان کی مخصوص رونق اور روایتی چہل پہل مفقود تھی۔ رمضان بجھا بجھا سا تھا۔ تیسرے دن کا آغاز عجیب ہیبت سے ہوا۔ ہر طرف ہوکا کا عالم تھا۔ پرندے بھی دم سادھے تھے اور کوئی چہچہاہٹ نہیں تھی۔ سیانے کہتے ہیں کسی آفت کے آنے کی خبر سب سے پہلے جانوروں کو ہوتی ہے اور یہ شاید سچ ہے۔ یہاں میں یہ وضاحت کرتی چلوں کہ میں روزے نہیں رکھتی۔
آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ بروز ہفتہ، یعنی تین رمضان المبارک کو میں اپنے معمول کے مطابق دیر سے اٹھی۔ باقی سب سحری کے بعد سو رہے تھے۔ میں نے منہ ہاتھ دھویا، برش کیا اور باورچی خانے کی راہ لی۔ (ان دنوں میں اپنا ناشتہ خود ہی بنا لیا کرتی تھی) ناشتہ کے لوازمات نکال کر چائے کے لیے فرج سے دودھ نکالا تو وہ خراب پڑا تھا۔ دودھ کا برتن باہر ہی چھوڑ کر پراٹھے کا پیڑہ اور آملیٹ کے لیے نکالا ہوا انڈا واپس فرج میں رکھا اور والدہ کو جا کر بتایا۔ انہوں نے آنکھوں کو نیم وا کر کے تسلی دی کہ ابھی اٹھ کر دکان سے تازہ دودھ لا کر دیتی ہیں۔ لیکن بے دھیانی میں اٹھ کر پلنگ پر لیٹ گئیں۔ اس سے پہلے وہ لوہے کی الماری کے سامنے فرشی بستر پر سو رہی تھیں۔ میں نے سوچا چلو ابھی اتنی بھوک محسوس نہیں ہو رہی، اچھا ہے وہ تھوڑی دیر اور سو لیں۔
میں ان کے جاگنے کے انتظار میں واپس اپنے بستر پہ بیٹھ گئی۔ تب میں عموماً سوچوں میں گم رہا کرتی تھی، اسی وجہ سے مجھے سب علامہ اقبال کہہ کر چھیڑا کرتے تھے۔ اس روز ذہن بالکل خالی تھا اور سوچیں کسی ایک جگہ مرتکز نہیں ہو پا رہی تھیں۔ اس وقت مخصوص پریشان کن خیالات بھی مفقود تھے جنہوں نے کئی ماہ سے میرا جینا حرام کیا ہوا تھا۔ آٹھ بج کر باون منٹ پر اچانک ایک دهماکے جیسی آواز آئی، ساتھ ہی تڑخ تڑخ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں جیسے زمین پھٹ رہی ہو۔ ہر چیز زیر و زبر ہونے لگی تھی۔ میں نے فوراً کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ پہلا خیال قیامت کا آیا اور دوسرا خیال نہیں نہیں قیامت جمعہ کو آئے گی، آج تو ہفتہ ہے۔ دس سیکنڈ کے بعد طوفان کچھ تھما تو میں نے خود کو والدہ کو آوازیں دیتے پایا۔ ممی جلدی اٹھیں، باہر نکلیں۔ جھٹکے اس قدر شدید تھے کہ وہ اٹھنے کی کوشش میں اچھل کر پلنگ کے دوسری جانب گر جاتی تھیں۔ جس جگہ وہ پہلے لیٹی تھیں، عین اسی جگہ سیف والی لوہے کی مضبوط الماری آ کر گری تو میری حسیات پوری طرح کام کرنے لگیں۔
جیسا کہ میں ذکر کر چکی ہوں کہ ذہن ایک دم خالی تھا، لیکن اس وقت مانو جیسے کوئی گرہ کھل گئی تھی اور دماغ پوری طرح بیدار ہو گیا تھا۔ میں نے آناً فاناً باہر دوڑ لگا دی۔ لاؤنج سے بھاگتے ہوئے میری نظر ٹی وی پر نظر پڑی جو یوں گر رہا تھا گویا پرنٹر میں سے صفحہ نکل رہا ہو۔ لاؤنج سے باہر گیلری میں نے نصب قد آدم آئینہ کرچی کرچی ہو چکا تھا۔ عام حالات میں مجھے کوئی ذرا سا پکڑ بھی لے تو نیل پڑ جاتے ہیں، مگر اس دن میں شیشے کی کرچیوں پر سے گذر کر گیٹ تک پہنچ گئی اور معجزانہ طور پر خراش تک نہیں آئی۔ جھٹکے مسلسل آ رہے تھے، کبھی تیز اور کبھی بہت تیز لیکن گڑگڑاہٹ تھم چکی تھی۔ میں گیٹ تک پہنچی ہی تھی جب ہنی نے آواز دی، وہیں رکو میں وہیل چیئر لے کر آ رہا ہوں۔ میری والدہ اور چھوٹی بہن اپنی بچی کو اٹھائے گرتی پڑتی چلی آ رہی تھیں۔ پیچھے بڑی بہن، ان کی نند اور بہنوئی میری بھانجی کو اٹھائے نکلتے دکھائی دیئے۔ وہ اوپری منزل پر رہائش پذیر تھے۔ بقول باجی کے، انہیں صرف یہ یاد تھا کمرے سے نکل کر پہلے زینے پر قدم رکھا تھا اور بیرونی دروازے سے نکل آئے۔ درمیان سے کیسے اترے کچھ نہیں معلوم، جبکہ سیڑھیاں ٹوٹ چکی تھیں۔
باہر نکلے تو دیکھا اردگرد کی ساری عمارات منہدم ہو چکی تھیں خصوصاً سرکاری عمارتوں کا نام و نشان تک نہ تھا۔ رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا تھا، مگر ان میں سے بیشتر ابھی کھڑی تھیں۔ ہم سب سامنے والوں کے صحن میں چلے گئے جو قدرے کنارے پہ تھا۔ طوفان تباہی کے نشانات ثبت کر کے بھی وقفے وقفے سے اپنا زور دکھاتا تھا۔ جب بیچ میں زوردار جھٹکے آتے تھے تو میرے بہن بھائی میری وہیل چیئر مضبوطی سے پکڑ لیتے تھے تاکہ میں زمین بوس نہ ہو جاؤں۔ باقی گھر والوں کے کیا حالات بھی بتاتی ہوں۔ جب زلزلہ آیا تو ابا عدالت میں تھے۔ ان سمیت تین وکلاء اپنی پیشی کے انتظار میں برآمدے میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ جونہی گڑگڑاہٹ ہوئی، تینوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر احاطے میں چلے گئے اور ساتھ ہی عدالت کی عمارت منہدم ہو گئی۔ امدادی کارروائیاں شروع ہونے کے دوران وہ پیدل گھر آئے۔ راستے میں ہونے والی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ان کو یقین ہو چلا تھا ہم شاید ہی زندہ ہوں۔
تحریر: فہمیدہ فرید خان
#Fehmiology
#FFKhan
#FFK

About Fehmeeda Farid Khan

A freelancer, blogger, content writer, translator, tour consultant, proofreader, environmentalist, social mobilizer, poetess and novelist. As a physically challenged person, she extends advocacy on disability related issues. She's masters in Economics and Linguistics along with B.Ed.

5 comments

  1. اوہ فہمی ۔۔ اللہ نے امان میں رکھا۔۔ ہاں وہ بہت ہی خوفناک اور بہت ہی دردناک وقت تھا ۔ہم سب کے لیے اور خاص طور پر آپ سب جو بری طرح متاثر ہوئے۔۔۔۔۔لیکن یہ یاداشت ادھوری ہے۔۔۔

  2. Simply wish to say your article is as amazing. The clarity in your post is just excellent and i can assume you are an expert
    on this subject. Fine with your permission let me to grab your RSS feed to keep up to date with forthcoming post.
    Thanks a million and please keep up the gratifying work.

  3. It’s hard to come by educated people in this particular subject, however, you sound like you know what you’re talking
    about! Thanks

  4. Definitely believe that that you stated. Your favourite justification seemed to be at the internet the simplest
    factor to have in mind of. I say to you, I certainly get irked at the same time
    as other folks consider concerns that they plainly don’t understand about.

    You managed to hit the nail upon the highest as neatly as defined out the entire thing with no need side effect , other people
    can take a signal. Will likely be back to get more.
    Thank you

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*