Templates by BIGtheme NET
Home » fehmiology » گدی نشین ملکہ عالیہ
گدی نشین

گدی نشین ملکہ عالیہ

میں گهر والوں کی نظر میں بہت نخریلی اور شاہانہ مزاج بلکہ ملکہ عالیہ ہوں. ان کا یہ نقطہ نظر کچھ ایسا غلط بهی نہیں, مگر میں ان شخصی خصوصیات کو اب چاہ کر بھی تبدیل نہیں کر سکتی…
مثال کے طور پر ایک زمانے میں میرا بهائی مجهے گدی نشین کہتا تها. حقیقت یہ ہے کہ میں اب بهی گدی نشین ہی ہوں. گهر کوئی بهی ہو, ٹی وی لاؤنج میں میرا ایک مخصوص کونہ ہے, جہاں میری فرشی نشست ہے. اس جگہ پر دو بڑی گدیاں بچهی ہیں اور انکے اوپر ٹیک لگانے کیلئے گاؤ تکیے رکهے ہیں. ساتھ ساتھ چارجنگ کیلئے ایک عدد ایکسٹینشن لگائی گئی ہے, جہاں گهر بهر کے موبائلوں کے علاوہ میرے لیپ ٹاپ کی چارجنگ کا تسلی بخش انتظام موجود ہے. گدیوں کے آگے قالین پر ہی پانی کی ایک عدد بوتل اور گلاس. ان کے آگے لیپ ٹاپ, جس کو درست طریقے سے استعمال کرنے کیلئے بهائی نے ایک رحل نما چوکهٹا سا بنا کے دیا ہے. پیچهے تکیوں پر نئے پڑهنے والے ڈائجسٹ اور میرا روزنامچہ دهرے ہوتے.
اس ساری ترتیب کے ہمارے بچے بهی اتنے عادی ہیں کہ سارے لاؤنج میں اودهم اور دهما چوکڑی مچی ہوتی ہے مگر مجال ہے کہ اس کونے کی کسی چیز کو چهیڑیں. ہاں کبهی کبهار اگر میں اپنی جگہ پر نہ پائی جاؤں, تو دونوں شہزادے گدیوں پر بیٹھ کر ایسے خوش ہوتے ہیں کہ کیا ہی جهولوں پہ بیٹھ کر ہوئے ہوں.
یہ ترتیب سال کے دس مہینے رہتی ہے, ماسوائے سردیوں کے دو تین مہینوں کے, جب میں دهوپ میں تخت پر پائی جاتی ہوں اور میرے اردگرد بیشمار اشیاء بکهری پڑی ہوتی ہیں. لیپ ٹاپ, پانی, موبائل اور چارجر. اس کے علاوہ میری اون سلائیاں اور ادھ بنے نمونوں کا ٹال. تخت کے ساتھ ہی کتابوں کا ریک ہے, سو دهوپ اترنے تک وہیں پڑهنا لکهنا, کهانا پینا ہوتا. جب کوئی اور وہاں پر آئے تو میری اور اس کی یکساں ناک بنتی ہے. میری دخل در معقولات پہ اور دوسرے بندے کی اس پھیلاوے پہ, جس میں اس کو بیٹهنے کی جگہ مشکل سے میسر آتی ہے.
اسی طرح میں نے کهانے پینے کی انوکهی عادات پائی ہیں. پانی تو بیحد ضروری ہے؛ پانی نہ نظر آئے تو میں مرنے لگتی ہوں. میرے بهائیوں کے بقول “گاڑیاں ایندھن سے چلتی ہیں, اور ہماری بہن پانی سے”…
جب کہیں جانا ہو تو, گاڑی میں میری خاطر پانی لازمی رکها جاتا ہے. یا پھر باقی لوگ تهوڑی دیر کیلئے کہیں باہر جا رہے ہوں اور میں گهر پہ رک جاؤں, تو باوجود اسکے کہ میں کبهی بهی اکیلی نہیں ہوتی, پانی کی بوتل میں پانی کی مقدار ضرور چیک کی جاتی ہے. بدیسی مشروبات مجهے کبهی بهی پینے کا نہ پوچها جائے, بالکل بهی نہیں, ہرگز نہیں. بچپن میں ایک بار انکے نقصانات کے بارے میں پڑھا اور پهر کبهی انکو ہاتھ نہیں لگایا. ایک مرتبہ میں اور بهائی کسی کے گھر گئے, تو انہوں نے یہی ٹهنڈی بوتل پیش کی. بهائی فوراً بولا, سترہ سال ہو گئے, یہ بوتل نہیں پیتیں اور میری وہیں ہنسی چھوٹ گئی.
پهلوں کا رس میں پی لیتی ہوں, مگر کبهی کبهار. ملک شیک کوئی سا بھی ہو, مجهے پسند ہے, خاص کر آم اور سٹابری کا.
پهلوں میں کیلا مجهے بیحد پسند ہے. پهلوں کی چاٹ بنی ہو تو بهائی ڈونگا پہلے مجهے پکڑاتے کہ کیلے چن لو… ہاں خشک میوہ جات سے میں کبهی انکار نہیں کروں گی.
کهانے میں تجربات کرنا زیادہ پسند نہیں, لیکن پکانے میں بہت تجربے کیے. قیمہ کریلے اور ماش کی دال اچهی بنایا کرتی تهی. اب تو عرصہ ہوا, میں نے کچھ نہیں بنایا, صرف کبهی کبهار چائے کے. ہاں باہر کهانے جائیں تو پهر مختلف کهانے ضرور چکهتی ہوں. دالوں سے مجهے بالکل شغف نہیں, پر کها لیتی ہوں. لیکن لوبیا اور چنے کی دال پهر بهی نہیں کها سکتی.
سبزیاں, آلو کے علاوہ جو سبزی بهی کہیں گے, کها لوں گی. بهنڈی, کدو, ٹینڈے, بینگن اور کریلے بهی. گوشت کهاتی ہوں, مگر کم اور مرغی کا بالکل نہیں. تاہم دیسی مرغ ہو تو ضرور بالضرور. کباب اور باربی کیو زیادہ پسند ہے یا بهنا ہوا گوشت… آملیٹ ہر طرح کا پسند ہے.
چائے اچهی ہو, گرما گرم ہو اور لوازمات کے ساتھ ہو, چاہے کشمیری کلچہ ہی کیوں نہ ہو. کپ صاف اور ہلکے رنگ کا ہو. بڑا ہو نہ چهوٹا, مطلب جس سے میں آرام سے چائے سے لطف اندوز ہو سکوں.
پانی کا گلاس کانچ کا اور صاف ستھرا ہو. بڑا سا ہو تو کیا ہی کہنے…
کهانا مناسب مقدار میں ڈالا گیا ہو, سالن زیادہ دیکھ کر بهوک ہی مر جاتی ہے. میں کهانا پلیٹ میں خود نہیں ڈالتی, یہ کام میرے بہن بھائیوں یا بهابهی کو کرنا پڑتا ہے. کهانا خوش رنگ اور خوش ذائقہ ہو, میں کہتی ہوں کہ کهانا ایسا ہو کہ دیکهتے ہی کهانے کا دل کرے. کیونکہ مجهے بهوک کم لگتی ہے. کهانے کے دوران بهی جب پیٹ بھر جائے تو میں مزید کهانا نہیں کها سکتی. میرے بہن بھائیوں اور بهانجیوں کے بقول میں کهانا ضائع کرتی ہوں. مگر میں زبردستی نہیں کها پاتی, اور مجبوراً مجھے کهانا چهوڑنا پڑتا ہے.
کهانا سلیقے سے چنا ہوا ہو, اس کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے, اسی لیے ہم باقاعدہ دسترخوان بچها کر کهانا چنتے ہیں. کهانے کے ساتھ سلاد ہو تو پورے چار چاند لگ جاتے. میٹها لازمی نہیں, تاہم مجھے میٹهے میں کهیر, ٹرائفل اور فرنچ ٹوسٹ پسند ہیں. زردہ بهی خاص موقعوں پر اچها لگتا ہے.
تو جناب یہ رہیں میری کهانے پینے کی چند انوکهی اور عجیب و غریب حرکات و عادات…

فہمیدہ فرید خان

About Fehmeeda Farid Khan

I am Fehmeeda Farid Khan; Freelance Content Writer, Reporting Analyst, Translator, Tour Consultant, Proofreader, Environmentalist, Social Mobilizer. I write Poetry as well as Excerpts in both Urdu and English. I have translated a book entitled "The Art of the Interview Skills". As a Physically Challenged Person, I extend Advocacy on Disability issues. I would like to excel as a Motivational Speaker. I have worked in different NGOs as Peer Counselor and Reporting Analyst. I am working for Environmental Awareness and intended to impart it through my writings. I am Masters in Economics and English. I have an additional degree of Bachelors in Education (B.Ed).

4 comments

  1. Abdul Haseeb Zahid

    آج پتہ چلا آپ کو ملکہ کیوں کہتے ہیں۔

  2. واہ واہ ملکہ عالیہ ۔۔ہم آپکے بار جان کر لطف اندوز ہوئے 🙂

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*