Templates by BIGtheme NET
Home » fehmiology » زلزلہ 2005 کی کچھ یادداشتیں <> حصہ دوم
Earthquake
Earthquake 2005

زلزلہ 2005 کی کچھ یادداشتیں <> حصہ دوم

بڑے بھائی کو اس دن یونیورسٹی سے چهٹی تهی اور وہ ابا سے گاڑی لینے جا رہا تھا۔  ابا گاڑی عدالت لے جاتے تھے تو وہ ہفتہ کے دن سروس وغیرہ کروانے کیلئے لے آتا تھا اور بعد میں ابا کو پک کر لیتا ت
وہ ابھی کشمیری بازار کی گلی میں داخل ہوا ہی تھا کہ گڑگڑاہٹ شروع ہو گئی اور اس نے یکدم باہر چهلانگ لگا دی۔ آپس میں گلے ملتی عمارتیں، لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ اڑتی، گرتی اینٹیں لگنے سے اس کی کمر اور پاؤں پر زخم آئے تھے۔
میری دوسری بہن ٹیچنگ کرتی تھی اور اس دن وہ فیسیں جمع کر رہی تھی۔ جونہی جھٹکے لگنا شروع ہوئے، وہ فوری طور پر گھر کی طرف بھاگی۔ جب وہ ہمارے پاس پہنچی تو فیس کارڈز اس کے ہاتھ میں تھے اور پیسے کہیں گر چکے تھے۔
اب ہوا یوں کہ جو بهی واپس آتا جائے، وہ پہلے پوچهے “فہمی کدهر ہے”۔
بدحواسی کا عالم یہ تھا کہ سب میری وہیل چیئر پکڑ کر دوسروں سے پوچھ رہے تھے۔ میں ان کو ہلا ہلا کر کہے جا رہی تھی کہ میں یہاں ہوں اور بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں، مگر ان کو یقین نہیں آ رہا تھا۔
اور یقین آتا بھی تو کیسے، جب انہوں نے ایک پل میں اپنی آنکھوں کے سامنے سینکڑوں ہٹے کٹے لوگوں کو لقمہ اجل بنتے ہوئے دیکھا تھا۔ میں تو پھر معذوری کا شکار تھی۔
بہرحال بهائی اسی زخمی حالت میں بھاگا بھاگا آیا۔ سڑک کے موڑ سے آواز دے کر سب کی خیریت پوچهی اور جب اسے چهوٹی بہن کا پتہ چلا کہ وہ ابهی تک کالج سے نہیں پہنچی، تو وہیں سے پلٹ گیا۔ وہ بہن کو کالج سے لیکر آ رہا تھا تو راستے میں اسے ریاب ملا۔ سڑک کے موڑ سے بہن کو بهیج کر وہ سب یونیورسٹی کی طرف دوڑ گئے۔
یونیورسٹی پوری طرح تباہ ہو چکی تھی۔ جیالوجی اور چند دوسرے شعبہ جات میں ہفتے کو تعطیل نہیں ہوا کرتی تھی۔
شعبہ جیالوجی یونیورسٹی کا سب سے بڑا شعبہ تھا اور طلباء کی ایک بڑی تعداد شہید ہو چکی تهی۔
پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں میں بھی قیامت صغریٰ برپا تهی۔ خصوصا پائلٹ سکول اور رضوان سکول کے زیادہ تر طلباء جاں بحق ہو چکے تھے۔
ابا نے سب کو صلاح دی کہ یہ جگہ زیادہ محفوظ نہیں ہے، لہٰذا پیچھے چوہدری بوستان کے میدان میں چلتے ہیں، جو ایک کھلی جگہ تھی۔
جہاں ہم اس وقت تھے، وہ جگہ پہاڑی کے نکڑ پر تھی۔ کیونکہ جھٹکے مسلسل آ رہے تھے تو وہ کسی وقت بھی زمیں بوس ہو سکتی تھی۔
آپ یقین مانیں کہ جب ہم پچھلے میدان میں پہنچے تو بعینہ وہی مناظر نظر آئے جن کو میں مسلسل خواب میں دیکها کرتی تهی۔
اس سے قبل کسی کی موت کی خبر سنتے ہی مجھ پر لرزہ طاری ہو جاتا تها، مگر اس روز عجیب سی بے خوفی بلکہ شاید بے حسی طاری ہو گئی تھی یا شاید اس سانحے کے زیر اثر اعصاب شل تهے۔ زخمیوں اور لاشوں کو وہیں لایا جا رہا تها۔ ہمارے اردگرد بے شمار لاشیں تهیں اور لاتعداد زخمی۔ مگر کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
گهروں کے گهر اجڑ گئے تھے اور ان کو دفنانے والا کوئی نہیں تها۔ بے گور و کفن لاشیں نوحہ کناں تھیں۔ اسپتال ملبے کی صورت اختیار کرنے باوجود زخمیوں سے اٹے پڑے تهے۔
میرے بڑے بہنوئی نے صرف ایک برمودہ پہنا ہوا تھا اور ننگے پاؤں تھے۔ اسی حالت میں وہ پہلے شوکت لائن گئے، اپنے بھائی کے بچوں کی خیریت پوچھنے اور وہاں سے سیدھے سی ایم ایچ گئے، ہو سکتا ہے کچھ طبی سامان مل جائے۔ میرے بڑے بہنوئی ڈاکٹر ہیں۔
سی ایم ایچ بهی ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا لیکن ڈاکٹرز کے جذبے کا یہ عالم تها کہ اپنے پیاروں کو کھو کر بھی پرعزم تھے۔ رہائشی کالونی میں جا کر آوازیں لگا کر چیک کیا، شاید کوئی زندہ ہو۔ مگر جب کوئی امید کی کرن نہ ملی تو بولے، “لگتا ہے کوئی زندہ نہیں بچا، چلو چل کر زخمیوں کو نکالتے ہیں”۔
سب سے پہلے انہوں نے ملبہ ہٹا کر کچھ ادویات برآمد کیں اور آپس میں بانٹ لیں۔ یوں اسی ملبے کے ڈھیر پر انہوں نے پہلی امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔
بہنوئی واپس آئے تو ان کے پاس ایک ٹوٹی پھوٹی بالٹی میں ادویات تھیں، مگر مرہم پٹی کا دیگر سامان ندارد۔ سو انہوں نے وہاں موجود سب مردوں سے مدد کی درخواست کی اور ان کی قمیصوں کے دامن کاٹ کاٹ کر ان سے مرہم پٹی کا کام لیا۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ تمام مواصلاتی اور زمینی رابطے منقطع ہو چکے تھے۔ بیرونی علاقوں سے مدد مانگنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ کسی کو کچھ خبر نہ تھی کہ باقی علاقوں کے کیا حالات ہیں۔
اسی اثناء میں میرے ماموں آتے دکھائی دیئے، جو “آج نیوز” سے منسلک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیٹیلائٹ کے ذریعے اسلام آباد اطلاع کر دی گئی ہے۔
مجھے بیحد پیاس لگ رہی تھی مگر گھروں کے اندر کوئی نہیں جا سکتا تھا۔ وہاں ایک بارش کے پانی کا ایک گندا سا جوہڑ تھا۔ میدان کے ساتھ آگے دکانیں تھیں۔ ایک دکاندار نے کہیں سے سٹیل کا گلاس مہیا کر دیا اور میں نے وہی پانی پی لیا۔ ایک دکاندار نے اپنی دکان سے سب بچوں کو اور مجھے بسکٹ اور جوس کے پیکٹ لا کر دیئے۔
تھوڑی دیر بعد ہم سب میدان سے اٹھ کر اب ایک سابق ممبر اسمبلی کے صحن میں آن بیٹھے۔
ماموں نے ان کے گهر والوں سے کہا کہ آپ کا ٹیلیفون چیک کر لیتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ رابطہ بحال ہو گیا ہو۔ زلزلے کے جھٹکوں میں وقفے کے دوران فون باہر لایا گیا اور کچھ دیر بعد وہ کام کرنے لگ پڑا۔
رابطہ بحال ہوتے ہی ماموں نے سب سے پہلے اپنے چینل والوں کو فون کر کے اصل صورتحال سے آگاہ کیا۔ پھر باقی لوگوں نے ادهر ادھر رابطے کی کوشش کی اور جہاں جہاں ممکن ہوا، اطلاع کرنے کی کوشش کی۔
بہنوئی کے والد صاحب (ہمارے خالو، جو اسلام آباد میں مقیم تھے) نے بتایا کہ ٹی وی پر صرف یہ خبر چل رہی ہے کہ مظفر آباد میں صرف سپریم کورٹ کی عمارت گری ہے۔ جب ان کو بتایا گیا کہ پورا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے تو ان کو صحیح معنوں میں تشویش لاحق ہوئی۔
ماموں کی فون کال کے تقریباً پندرہ منٹ بعد فضا میں ایک ہیلی کاپٹر نمودار ہوا۔ اس نے شہر کے اوپر چکر لگا کر حالات کا جائزہ لیا اور واپس ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد ہیلی کاپٹرز کا تانتا بندھ گیا اور کچھ وقت بعد پاکستان کی جانب سے امدادی کاروائیاں شروع ہو گئیں۔
قسط چہارم
امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں، زخمیوں کو اسلام آباد اور دیگر قریبی علاقوں کی طرف منتقل کیا جانے لگا۔ ان کی باقاعدہ درجہ بندی کی جا رہی تھی، زخمی اور شدید زخمی۔ شدید زخمیوں کو پہلے بھیجا جا رہا تھا۔
ماموں نے ابا اور بہنوئی سے کہا، “سڑکوں سے اب تھوڑا تھوڑا ملبہ ہٹایا جا رہا ہے تو میں جا کر خیموں کا بندوبست کرتا ہوں۔ آپ سب لوگ چهتر آ جائیں” اور وہ پیدل ہی واپس چلے گئے۔
ابا کی گاڑی عدالت کے احاطے میں ہی کهڑی تهی۔ گو کہ وہ وہاں محفوظ نہیں تهی مگر اس کو لانے کا کوئی راستہ نہ تھا۔ بس لے دے کر بہنوئی کی کار ہی تهی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ دو چکر لگا کر سب گھر والے چهتر جاتے ہیں۔
اس سانحے میں چهتر تباہ ہونے سے بچ گیا تھا۔ دراصل دریائے نیلم کی ایک جانب تو بہت تباہی ہوئی تھی، جبکہ دوسری سمت نسبتاً محفوظ رہی تھی اور چهتر بهی انہی علاقوں میں سے ایک تھا۔ گو کہ جهٹکے ادھر بهی زوردار آ رہے تھے، مگر نقصان زیادہ نہیں ہوا تھا۔ یوں تقریباً شام کے وقت ہم روانہ ہوئے۔
اس سے پہلے زلزلے کے جھٹکوں کے دوران جب تهوڑی دیر کا وقفہ ہوتا تھا، تو کوئی نہ کوئی بهاگم بهاگ جاتا اور چند ضروری اشیاء لے آتا۔ اوڑھنیاں، جوتے اور کمبل وغیرہ۔
مجھے پہلی باری میں بہنوں اور بچوں کے ساتھ بھیج دیا گیا۔ ابا، اماں، ایک بہن اور ہنی پیچهے رہ گئے۔ اس دن سفر بہت لمبا لگا تها، حالانکہ بمشکل بیس پچیس منٹ کا راستہ تها۔
چهتر پہنچ کے ہم گاڑی سے اتر کر زمین پر ہی بیٹھ گئے۔ گهروں کے اندر کوئی بھی جانے کو تیار نہیں تها، تو اٹهنے بیٹھنے کو کچھ بھی میسر نہ تها۔ بہنوئی نے گاڑی موڑی کہ جا کر باقیوں کو لے آئیں مگر تھوڑا آگے جا کر وہ رک گئی۔ پتا چلا کہ پٹرول ختم ہو گیا ہے۔ وہاں کے رہائشی لوگوں سے مانگا، مگر کوئی بھی دینے کو تیار نہ ہوا۔ لوگ آنے والے حالات سے خوفزدہ تھے۔
ابهی ایک ہی خیمہ نصب ہوا تها کہ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ مجھے دیگر خواتین اور بچوں سمیت خیمے میں بهیج دیا گیا۔ بارے روزہ افطار ہوا اور بعد میں سب نے مل ملا کے کهانا بھی بنا لیا کہ پیٹ کا جہنم بھی بهرنا تها۔
رات دس بجے ایک میجر صاحب نے ماموں کی درخواست پر سات لیٹر پیٹرول بهجوایا، اللہ ان کو جزائے خیر دے۔ گاڑی میں پٹرول ڈال کر ابهی بھائی نکلنے والے تهے کہ ابا کے دوست کی گاڑی ان کو لے کر آ گئی۔ سب نے شکر ادا کیا اور اس کے بعد سب نے بمشکل دو دو نوالے زہر مار کیے۔
ماموں کے برادر نسبتی نے کہیں سے ایک چارپائی برآمد کی اور ابا کیلئے لا کے دی، وہ اور بچے چارپائی پہ لیٹ گئے۔ باقی ہم سب اسی پتهریلی، جهاڑی دار جگہ پہ ترپال ڈال کے پڑ گئے۔ رات آنکھوں میں کٹ گئی کہ جھٹکے مسلسل آ رہے تھے اور جھاڑیاں بھی بدن میں کھبی جا رہی تھیں۔
گاؤں کا خیال بھی دامن گیر تھا، سب رشتہ دار وہاں تھے اور رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ سڑکیں بھی بند ہو چکی تھیں۔
اگلے دن کہہ سن کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی سامان بهجوایا گیا، مگر خیر کی خبر پهر بهی نہ ملی کہ ہیلی کے اترنے کی جگہ ندارد تھی۔ دوسرے تیسرے دن کچھ لوگوں کی آمد سے معلوم ہوا کہ میری دو خالاؤں، دو پهوپهی زاد بہنوں سمیت سینکڑوں رشتہ دار شہید ہو گئے ہیں۔ نانی اماں چهوٹے ماموں کے پاس رہتی تهیں، ان سے یہ خبر کسی طور چهپا لی گئی۔ مگر وہ زلزلے کے دن سے کہہ رہی تهیں کہ مجھے پتہ ہے، کچھ نہیں بچا۔ خاص طور پر جب اماں ان کے ایصال ثواب کیلئے دعا کرواتیں تو وہ مزید مشکوک ہو جاتیں لیکن ان کو یہ کہہ کر تسلی دی جاتی کہ ہم رمضان میں ہر دفعہ ہی دعا کرواتے ہیں۔ بڑے ماموں شدید زخمی تهے، ان کو گاؤں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد پہنچا دیا گیا تها۔
آخری قسط
پہلا دن وہیں سڑک کے کنارے خیموں میں گذارا، پهر ماموں کے برادر نسبتی کے صحن میں خیمے لگا لیے۔
ویسے تو سب لوگ امدادی کارروائیوں میں مقدور بھر حصہ لے رہے تھے، لیکن دوسرے دن سے منظم بنیادوں پہ کام شروع ہوا۔ ماموں کے توسط سے مختلف چینل والے بهی وہیں آ براجمان ہوئے۔ ان میں سے بیشتر کو ہم جانتے ہی تهے اور کچھ نئے لوگوں سے بهی ملاقات ہوئی۔ ریکارڈنگ ہوتے وقت بهی ہم بنفس نفیس دیکھ رہے ہوتے تهے۔ مشاق منہاس، طلعت حسین، اقبال حسین، کرن فلٹن {جارج فلٹن کی اہلیہ (جارج کا پاکستان)} فیم اور بہت سے دوسرے آتے جاتے ہم سے گپ شپ کرتے رہتے۔
انہوں نے میری نانی اماں کیلئے ایک ڈاکیومینٹری بھی بنائی تھی، شاید اس کا نام “مریم کا سفر” تھا۔ مریم میری نانی اماں کا نام ہے اور یہ ڈاکیومینٹری زلزلے کے بعد ان کے گاؤں کے سفر پر بنائی گئی تھی۔
ہماری گاڑی کو رسیوں سے باندھوا کر انہی صحافیوں اور میرے بھائیوں کے دوستوں نے اتروایا تها۔ ابا کی لائبریری کی بہت سی کتب کو بچا لینے میں بهی ان کا بڑا ہاتھ تها۔
گاڑی کی ٹینکی میں سوراخ کر کے پٹرول نکال لیا گیا تھا اور اس کے سارے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔ ضروری کاغذات نکال کے آگ جلا لی گئی تھی۔ اس بے سر و سامانی کی حالت میں یہ ایک اور دھچکا تھا۔
ان دنوں ہمارا کام تها، دن رات فہرستیں مرتب کرنا، امدادی سامان بهجوانے کا اہتمام کرنا اور چیک کرنا کہ کون سے علاقے میں کن اشیاء کی زیادہ ضرورت ہے۔ خیمے، راشن، ادویات، کمبل اور دیگر ضروریات زندگی کا ریکارڈ مرتب کرنا۔
لوگ آتے، اپنے اپنے علاقوں کی فہرستیں دیتے اور سامان لے جاتے تھے۔ میرا کام سب فہرستوں کو ترتیب سے رکھنا تھا۔ ساتھ ساتھ ضروری معلومات یاد رکھنا کہ امدادی سامان کون سا آیا، کون لایا، کتنا رہ گیا اور کون سی چیزیں کم رہ گئیں۔
ماموں وغیرہ کیونکہ ادھر ادھر رپورٹنگ کرنے جاتے تھے تو سب فہرستیں میرے پاس ہوتی تھیں۔
بچوں کا ان دنوں ایک ہی کام تها کہ وہ پگڈنڈی پہ بیٹھ کر نیچے اسمبلی گراؤنڈ میں بنے ہیلی پیڈ کو گنتے رہتے تھے، کتنے ہیلی کاپٹر آئے اور کتنے گئے۔ کبھی نیچے چلے جاتے اور واپس اوپر۔ ہیلی کاپٹر امدادی سامان لے کے آتے اور زخمیوں کو لے کے جاتے تھے۔ بچوں کو بهی اچهی خاصی مصروفیت ملی ہوئی اور ہمیں ان کے ذریعے اچھی خاصی معلومات مل جاتی تھیں۔ کبھی کبھی ہم امدادی کیمپوں کی صورتحال کا جائزہ لینے بھی چلے جاتے تھے اور باہر سے آئے لوگوں سے ملنے کا بھی بہت موقع ملا۔
ابا نے اپنے لیے کسی بھی امداد کیلئے منع کر دیا تھا، کیونکہ اماں نے رمضان کیلئے جو سودا سلف خریدا تھا، وہ چھوٹے اسٹور میں بحفاظت تھا اور آرام سے نکلوا لیا گیا تھا۔ وہ اگلے ایک ڈیڑھ ماہ کیلئے کافی تھا۔ اتنی دیر میں اللہ کے حکم سے کوئی نہ کوئی بندوبست ہو جانا تھا۔
ابا اور مون اس دوران میرپور کا ایک چکر لگا آئے تھے کہ وہاں منتقل ہونے کا ارادہ بن رہا تھا۔ وہاں کوئی گھر خالی نہیں ملا تھا تو ابا کے دوست نے اپنا ایک خالی فلیٹ دیا تھا۔ وہ تیسری منزل پہ تھا اور آمد و رفت کا واحد ذریعہ سیڑھیاں تھیں۔ میری وجہ سے سب متذبذب تھے مگر غنیمت تھا کہ وہ بھی مل گیا۔
اسی دوران عید آئی اور گذر گئی۔ کیسے گذری، یہ کیسے بتائیں۔ لیکن اب زندگی تهوڑا تهوڑا معمول پہ آنا شروع ہو چکی تھی۔
پندرہ نومبر کو ہم میرپور چلے گئے۔ دو دن ابا کے انہی دوست نے میزبانی کی اور دوستی کا حق ادا کر دیا۔
سب نے مل کر دو دن میں سارا فلیٹ صاف کر کے سیٹ کیا اور ہم وہاں منتقل ہو گئے۔ اگلے ساڑھے چار سال ہم نے وہیں اسی فلیٹ میں گذارے۔ مظفرآباد میں تو رہنے کو گھر تک نہ تھا اور بہن بھائیوں کی تعلیم کا مسئلہ بھی تھا۔
ابا نے جب وہاں نئے سرے سے وکالت شروع کی تو ان کے پاس کالا کوٹ تھا نہ چیمبر۔ یوں وہ ذوالفقار انکل کے چیمبر میں ہی بیٹھنے لگے۔
مون لوگوں کا کیمپس بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں منتقل ہو گیا تھا اور ہنی آرمی سکول منگلہ جانے لگا تھا۔
زندگی پھر سے رواں دواں تھی مگر اپنے پیاروں کو آخری وقت نہ دیکھ سکنے کی کسک اب بھی تڑپاتی ہے۔

تحریر: فہمیدہ فرید خان

#Fehmiology

#FFKhan

#FFK

Part 1 below:

ماضی کی چند یادداشتیں: 2005 کا زلزلہ

About Fehmeeda Farid Khan

I am Fehmeeda Farid Khan; Freelance Content Writer, Reporting Analyst, Translator, Tour Consultant, Proofreader, Environmentalist, Social Mobilizer. I write Poetry as well as Excerpts in both Urdu and English. I have translated a book entitled "The Art of the Interview Skills". As a Physically Challenged Person, I extend Advocacy on Disability issues. I would like to excel as a Motivational Speaker. I have worked in different NGOs as Peer Counselor and Reporting Analyst. I am working for Environmental Awareness and intended to impart it through my writings. I am Masters in Economics and English. I have an additional degree of Bachelors in Education (B.Ed).

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*