Templates by BIGtheme NET
Home » Adventure Travel » داستانِ سوات
سوات
سوات

داستانِ سوات

کہانی شروع ہوتی ہے 18 اگست سے۔ جمعہ کا دن تھا اور رات 12 بجے ہماری لاہور سے منگورہ کیلئے ڈائیوو کی بکنگ تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ میں 10 بجے تک آفاق کے ہوسٹل پہنچ جاؤں گا اور پھر وہاں سے ایک ساتھ ڈائیوو کیلئے نکلیں گے۔ لیکن ہمیشہ کی طرح اپنی عادت سے مجبور میں 11:45 تک اپنے گھر ہی موجود تھا۔ کچھ دیر پہلے آفاق کو بتا چکا تھا کہ میں سیدھا ڈائیوو ٹرمینل پہنچ رہا ہوں۔ اور انتظار میں تھا کہ اب کال پہ کال آئے گی کہ اب تک پہنچے کیوں نہیں؟ لیکن حیرت انگیز طور پر میرا فون خاموش تھا۔ 11:57 پر ڈائیوو پہنچا تو پہلے سے موجود احسن نے بتایا کہ آفاق اور ناصر ابھی تک نہیں پہنچے ۔ آفاق تو سازوسامان کی ساتھ تین منٹ بعدپہنچ گیا لیکن ناصر، جس کے پاس ٹرپ کا آدھے سے زیادہ سامان تھا، کا ابھی بھی کچھ پتہ نہیں تھا۔ آفاق اور احسن نے ڈائیوو کے مینیجر کو باتوں میں مصروف کر لیا اور آخر کار 12:07 پر ناصر بھی پہنچ گیا۔ اب سامان لوڈ کروانے لگے تو ایک اور مسئلہ ہمارا منتظر تھا۔ گیس سلنڈر دیکھ کر انہوں نے کہا کہ آتش گیر مادہ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم نے اسے قائل کرنے کی کوشش کہ بھائی سلنڈر مادہ نہیں ، نر ہوتا ہے۔لیکن اس نے وقت کی کمی کے باعث کچھ سننے سے انکار کر دیا۔ ورنہ شائد وہ جواب دیتا کہ سلنڈر میں موجود گیس مادہ ہی ہے۔ بہرحال 12:10 پر ہماری بس روانہ ہو گئی۔ بس میں بیٹھ کر پتہ چلا کہ یہ دونوں 45 منٹ پہلے کے ہاسٹل سے نکلے ہوئے تھے۔ لیکن راستے میں ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے وقت پر نہ پہنچ سکے۔ بہر حال میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ اس وجہ سے میں ان کی گالیاں سننے سے بچ گیا۔
ہفتہ کی صبح تقریباً نو بجے ہم منگورہ پہنچ گئے۔ منگورہ پہنچتے ہی آفاق اپنے ’لیڈر موڈ‘ میں آ گیااور فوراً ہائی ایس کا بندوبست کرنے نکل کھڑا ہوا۔ اتنی دیرمیں ہم (ناصر، احسن اور میں) ڈائیوو ٹرمینل کا جائزہ لیتے رہے جو کافی خوبصورت بنا ہوا ہے۔ ٹرمینل کی عمارت کے سامنے چھوٹا سا لان ہے جس کو باڑھ اور پودوں کی مناسب کانٹ چھانٹ کر کے دیدہ زیب بنایا گیا ہے۔ کچھ دیر بعد آفاق ہائی ایس لے کر آ گیا اور ہم عازمِ کالام ہو گئے۔ منگورہ کے مضافاتی علاقے سے ہم نے اپنے مزید دوستوں علی، فہد، ارسلان اور فرحان کو ساتھ لیا اور ہم آٹھ لوگ کالام کی طرف رواں دواں ہو گئے۔ راستے میں ہم دریا کے کنارے ایک ڈھابے پر رکے جہاں ہم نے چائے اور پکوڑں سے اپنی پیٹ پوجا کی۔ ڈھابہ اگرچہ چھوٹا ہی تھا لیکن اس نے پائن کے درخت کے گرد دائرہ میں منزل در منزل اس طرح بیٹھنے کا بندوبست کیا ہوا تھا کہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔
چائے پی کر ہم پھر روانہ ہو گئے اور بحرین سے ہوتے ہوئے سیدھے کالام جا کر بریک لگائی جہاں ڈریم لینڈ ہوٹل میں ہمارے قیام کا بندوبست تھا۔ بحرین تک راستہ کسی حد تک ٹھیک ہے یعنی ہم سڑک پر ہی چلتے ہیں ۔ لیکن بحرین گزرنے کے کچھ دیر بعد سڑک تو بالکل غائب ہو گئی اور کچا راستہ ہے جو پتھروں اور گڑھوں سے بھرا ہوا ہے۔
میں اپنی نیند کے حوالے سے مشہور ہوں کہ کسی بھی حالت میں سو جاتا ہوں۔ اور میں خود بھی اعتراف کرتا ہوں کہ میں اس محاورے ’نیند تو سولی پر بھی آ جاتی ہے‘ کا عملی نمونہ ہوں۔ یہاں میں نے ایک اور سنگِ میل عبور کیا کہ وہ راستہ جس کے دوران کوئی سیدھی طرح بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا، میں نے سوتے سوتے گزار دیا۔ دوستوں نے بتایا کہ کبھی میں کھڑکی سے ٹکراتا تھا اور کبھی کسی دوست سے، لیکن مجال ہے جو میری نیند میں خلل واقع ہوا ہو۔
ہوٹل پہنچ کر کچھ لوگ تو سو گئے، آفاق رات کے کھانے اور اور اگلے دن کی ہائکنگ کا انتظام کرنے میں مصروف ہو گیا جبکہ میں اور احسن بازار کی طرف نکل گئے جہاں سے ہم نے ضرورت کی کچھ اشیاء خریدیں۔ واپس آئے تو دیکھا کہ آفاق نے ایک گائیڈ کو گھیراہوا تھا، یا شائد گائیڈ نے آفاق کو گھیرا ہوا تھا، ہم اس بات کا فیصلہ نہ کر سکے۔ بہرحال دونوں اگلے پانچ دن کا پلان فائنل کر رہے تھے۔ جب فائنل ہو گیا تو گائیڈ دو جیپ والوں کو بلا لایا اور آفاق نے ان سے بھاؤ تاؤ کر کے جانے اور واپس لے کر آنے کا کرایہ بھی فائنل کر لیا کیونکہ ہم آزاد کشمیر والا ایڈونچر دوبارہ کرنے کے موڈ میں نہیں تھے۔ یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے، اب ذکر چھڑا ہی ہے تو بیان کر دیتا ہوں۔ دو سال قبل 2015 میں ہم چٹا کٹھا جھیل سر کرنے جا رہے تھے ۔ کیل تک پہنچتے ہوئے ہمیں تقریباً شام ہو گئی تھی۔ آگے جیپ ٹریک تھا۔ ہم نے جیپ والوں سے بات کی تو وہ کرایہ زیادہ مانگ رہے تھے۔ اتنے میں کسی نے کہا کہ تھوڑا سا آگے جائیں گے تو یہ جیپ والے خود ہمارے پیچھے آ جائیں گے۔ اور کم کرایہ میں مان جائیں گے، ورنہ یہیں کہیں کیمپ لگا لیں گے۔ یہ سن کر ہم نے اپنا سامان اٹھایا، جو ہماری استطاعت سے کہیں زیادہ تھا، اور چل پڑے۔ لیکن جیپ والے بھی بے غیرت نکلے اور ہمارے پیچھے نہ آئے ۔ اور نہ ہی ہمیں کیمپنگ کے لئے مناسب جگہ نظر آئی۔ کچھ دیر میں اندھیرا پھیلنے لگا اور ہماری ہمت بھی جواب دینے لگی۔آخر کار کوئی ایک گھنٹہ مسلسل چلنے کے بعد ہمیں ایک مسجد نظر آئی اور ہم اس مسجد کے مسافر خانے میں پہنچ کر گر گئے اور رات گزاری۔ صبح جیپ والے وہاں سے گزرے تو ہم نے چپ چاپ ان کا منہ مانگا کرایہ قبول کر لیا۔
واپس اپنی کہانی کی طرف آتے ہیں۔رات نو بجے کے قریب شاہ راج، طلحہ اور شوریم بھی پہنچ گئے جو کراچی سے سیدھا آ رہے تھے اور ہمارا گیارہ لوگوں کا گروپ مکمل ہو گیا۔ رات کا کھانا کھا کر سب سو گئے ۔
اگلی صبح یعنی 20 اگست بروز اتوار ہم اٹھے تو دیکھا کہ جیپ والے ہمارے منتظر ہیں ۔ناشتہ کر کے ہم نے جیپوں میں اپنا سامان لوڈ کیا اورساتھ ہی خود بھی لوڈ ہو گئے۔ اور 7:30 بجے لڈو کی جانب سفر شروع کر دیا جس کے آگے سے ہم نے ہائکنگ شروع کرنی تھی۔ راستے میں اتروڑ میں رکے ۔ اتروڑ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جہاں سے ضرورت کی ہر چیز مل جاتی ہے۔ گائیڈ اور پورٹرز جن سے گزشتہ رات سارا ٹرپ فائنل کیا تھا، یہیں پر ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ سو ان کو ساتھ لے کر کھانے کا سامان خریدا۔ ایک پورٹر بھاگ کر گیس کا سلنڈر بھروا لایا اورہم ایک بار پھر چل پڑے اور تقریباً 45 منٹ بعد ہم لڈوکو کراس کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچ گئے جہاں سے سپن خور لیک اور کندول لیک کے راستے جدا ہوتے ہیں اور یہ جیپ کا آخری پوائنٹ ہے جس سے آگے پیدل راستہ ہے۔یہاں تک موبائل کے سگنل تھوڑے تھوڑے آتے ہیں لیکن اس سے آگے کوئی نیٹ ورک کام نہیں کرتا۔
ہم نے جلدی جلدی اپنا سامان وغیرہ اتارا اور یہاں موجود کیمپ ہوٹل والے کے پاس اپنے بیگ اور فالتو سامان رکھوا دیا کیونکہ ہم نے واپس پھر ادھر ہی آنا تھا۔ اب ہم نے اپنی ہائکنگ اسٹکس اٹھائیں اور سپن خور لیک کی طرف چل پڑے۔ ٹریک نہایت خوبصورت ہے۔ ہم شروع میں ہی پہاڑ پر موجود جنگل میں گھس گئے اور کافی دیر اسی پائن کے جنگل میں چلتے گئے بلکہ جنگل میں چڑھتے گئے کیونکہ جنگل مسلسل چڑھائی پر واقع ہے۔

About Naeem Salman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*